اک آرزوکا پھول

A Flower of Desire Author: خالد رؤف قريشی

اردو شاعری کی ایک منفرد کتاب جس میں نظمیں اور غزلیں شامل ہیں۔ اشعار کا یہ مجموعہ آپ کو ایک ایسے سفر پر لے جائیگا جس میں غم اور خوشی کا امتزاج، یاس اور بے چارگی کی تڑپ، اُمید اور ہمت کی چاہ، بھوک، پیاس اور افلاس کی جلن، سب شامل ہیں۔ 

$24.95

Share This

Description

اردو شاعری کی ایک منفرد کتاب جس میں نظمیں اور غزلیں شامل ہیں۔ اشعار کا یہ مجموعہ آپ کو ایک ایسے سفر پر لے جائیگا جس میں غم اور خوشی کا امتزاج، یاس اور بے چارگی کی تڑپ، اُمید اور ہمت، بہاروں کی چاہ، بھوک، پیاس اور افلاس کی جلن، سب شامل ہیں۔ 

اردو کے مشہور شعراء نثار سالک اور اعتبار ساجد کی آراء اس کتاب کو مزین کرتی ہیں۔ 

 

5 reviews for اک آرزوکا پھول

  1. پروفیسر ناصر علی سید – دردِ مشترک

    خالد۔۔۔۔۔۔ پتا ہے جب دو ایک محفلوں میں مجھے سعید نے تمہارے پہلے مجموعہ “اک آرزو کا پھول” کے شائع ہونے کی نوید سناتے ہوئے کہا کہ ایک دو دنوں میں کتاب بھجوادوں گا تو ‘نئی’ کتاب دیکھنے کی جو ایک فطری خواہش میرے ساتھ پلتی بڑھتی رہی ہے اس میں کچھ زیادہ ہلچل نیہں پیدا ہوئی۔ اس لئے سعید کا روایتی لاابلالی پن بھی مجھے زیادہ برا نیہں لگا اور جلد ہی میں نے سر کو جھٹک کر یہ بات بھلا دی۔ تمہاری نثر کی پہلی کتاب “خوف کی پرچھائیاں” بھی میں نے نہ جانے کس کے گھر ایسے ہی دیکھی تھی اور اس کی ورق گردانی کے دوران ہی مجھے بہت سی باتیں اور اس کے مسودہ کو پڑھنا یاد آگیا تھا۔ تم سے ملے ہوئے ایک یگ بیت گیا تھا۔ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی ہی نیہں اوپر سے بہت سا ٹریفک بھی گذر چکا تھا اور پل جب اتنا مصروف ہو جائے تو کناروں پر کھڑے دوست سماعتوں اور بصارتوں کی “دسترس” سے باہر ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک دن باتوں باتوں میں بشریٰ فرخ نے تمہارا ذکر چھیڑ دیا اور شعری مجموعہ کی بات کی تو میں نے کہا کہ “فاصلے” بڑھ گئے ہیں، سعید سال بھر پہلے اسے میرے لئے بھجوا چکا ہے۔ دیکھئے کب ملتا ہے۔ “اگر آپ کو چاہیئے تو میرے پاس ایک کاپی ہے بھجوادوں؟” بشریٰ بھابھی نے کہا تو میں نے خود سے یہی سوال کیا، جواب آیا، کوئی حرج نیہں۔ پتا ہے اصل میں مجھے تمہارا ‘مجموعہ’ نیہں تمہارا ‘بجھوایا ہوا مجموعہ” چاہیئے تھا۔ تم سمجھے رہے ہونا جب مجھے ‘اک آرزو کا پھول” ملا تو میں نے اسے ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالا۔ اور پھر میں تمہیں یاد کرنے لگا، تب میں کتنی ہی دیر تمہارے ساتھ اکوڑہ خٹک میں گھومتا رہا یہ دریا والی مسجد کہ سیڑھیوں پر بیٹھا ہوں۔ یہ مرحوم امداد لوگوں کے بنگلے کے برآمدہ میں کیرم کھیل رہا ہے۔ اپنے حجرے کی کھڑکی دریا کو دیکھ رہا ہوں- منظر انکل کے گھر کے کمرے میں چابی والے گراموفون پر ریکارڈ چینج کرتے ہوئے بار بار لتا کا گانا “تو نے ہائے میرے زخمِ جگر کو چھولیا” لگا لیتا ہوں۔ فتح محمد تنویرطاہر کا کڑھتے ہیں کہ یہی گیت کیوں بار بار؟ اور تم میرا ساتھ دیتے ہوئے کہ زبردست۔ تمہاری تائید مجھے اعتماد دلاتی ہے ۔ تم لوگ کارڈز کھیلتے ہو مجھے کھیلنا نیہں آتا۔ (اب بھی سوائے بلیک کوئین کے) گیم کے بعد میری فرمائش پر تم فیض کی غزل سنائے ہوئے مجھے ہمیشہ بہت اچھے لگے۔ گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے۔ پھر ایوب چن کے گھر کی دوسری منزل کی سیڑھیوں کے آخری سرے کے چبوتری پر کھڑے ہو کر تم شمع بینی کی بات کرتے ہو۔ آئینہ بینی اور ٹیلی پیتھی پر بات کرتے ہوئے مجھے تم اکوڑہ کے بازاروں میں لال انگارہ آنکھوں والے بنگالی بابا لگتے ہو۔ مجھے وہ انتظار بھی یاد آتا ہے جب میں گرمی کی چھٹیوں میں تم لوگوں کے آنے کا کرتا تھا اور ایوب چن کے گھر کے دروازے کے سامنے والے بجلی کے کھنبے کا سہارہ لے کر کھڑا رہتا ( پتا نیہں سال کے بعد بھی عذرا بھابھی کو میرا وہاں کھڑا ہونا یاد ہے۔ اس دن بتا رہی تھی نا؟) معلوم نیہں کتنے شب و روز ہم نے کن کن موضوعات پر باتیں کیں اور پھر وقت کو جیسے پر لگ گئے اور میں ایک دن لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے بولٹن بلاک کی دوسری منزل کے شمالی برآمدے کے جنگلے کے پاس تمیہں تسلی دے رہا تھا۔ تم بے پناہ مغموم تھے۔ ایوب چن ہسپتال میں تھے۔ تمہاری حالت دیکھ کر میں نے فضول فلسفہ بکھارتے ہوئے تمیہں موت و حیات کے وقتِ مقررہ کی بات سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے تمہارے مرحوم ابو کا ذکر چھیڑ دیا تھا۔ تم نے روتے ہوئے کہہ دیا کہ وہ سانحہ تو میں جھیل گیا مگر مجھے نیہں لگتا کہ اگر چن کو کچھ ہوتا ہے تو میں یہ بھی جھیل پاؤں گا۔ تب میں نے اپنا کاندھا تمہارے بوجھل سرکے آگے کردیا تھا اور نہ جانے کتنی دیر تم گم سم کھڑے رہے۔ خالد مگر اس ماضی کی یاترا کا جو بھی حوالہ تھا وہ اک آرزو کے پھول میں نیہں تھا۔ یا شاید تھا پا پھر تمہارے نام کا اعجاز تھا کہ ماضی آنکھوں میں منجمد سا ہو گیا۔ اصل میں دنیاداری اور گھرگرہستی کو چکروں نے پاؤن میں جو سفر باندھ دیئے تھے۔ ان کے تقاضے کچھ اور تھے۔ اب تیس برس کے بعد تم سے ملاقات ہوئے ہو تو ماضی کا رکا ہوا لمحہ پھرسے رواں ہو گیا اک آرزو کا پھول پر میں نے جو مضمون لکھا اس میں میرا احساس یہی تھا کہ “خالد کو اپنے اندر کے موسموں سے ہم آہنگ لفظوں سے مکالمے کا ہنر آگیا ہے اس لئے وہ روایتی کہانی کی جوتھی کھونٹ کا سفر سہولت کے ساتھ طے کرتے ہوئے واپسی پر چھلنی میں پانی لانے پر بھی قادر ہو گیا ہے اور واپسی کا یہ سفر ھوم کمنگ کا سفر ہے ۔ ہجرتوں کے مارے ہوئے خالد کے لئے دکھوں کی گھڑی سر پر اٹھائے اس سفر کی روداد کو نظموں کی شکل میں پیش کرنا کتنا مشکل کام ہے یہ ان لفظوں کی شدتوں کو اپنے اندر اتارنے والے یہ سمجھ سکتے ہیں: ابھی میں ماضی کے اس لمحے کی کھوج میں حیران پریشان ہوں اور تم نے یار مجھے اپنے دوسرے مجموعے کا مسودہ تھما دیا ہے۔ تیس سال بعد ملنے کی خوشی سیلی بریٹ کروں کہ ٹائم مشین میں بیٹھ کر چالیس سال پہلے کے خالد کا نفسیاتی تجزیہ کروں یا پھر ابن صفی کے کردار کرنل ہارد اسٹون (فریدی) سے جذباتی وابستگی رکھنے والے خالد سے پوچھوں کہ دوسری شعری مجموعے کا نام کانچ کے گلدان کیوں رکھا، کیا اس کے کرچی کرچی ہونے سے ڈر نیہں لگا۔ مگر میں اسے بھی جرعہ جرعہ اپنے اندر انڈیل رہا ہوں۔ ماضی کا لمحہ جب اندر ڈیرے ڈال لیتا ہے تو وہ امر بیل کی طرح ہوتا ہے وہ مستقبل اور حال کو سانس لینی نیہں دیتا۔ تم نے یہ جو اس مجموعے میں نظمیں لکھی ہیں نا، یہ مجھے بھی اندر سے کرچی کرچی کر رہی ہیں۔ اور یادوں کے تہہ خانوں میں اترنے والے کم گوش تھوڑے ہوتے ہیں تم نے ٹھیک کہا ہے کہ

    در کھلا ہے تو اک سسکی سی سنی ہے میں نے
    جسے صدیوں سے دبائے ہوئے لاکھوں شکوے
    ان کواڑوں نے میرے کان میں کہہ ڈالے ہوں
    آج اترا ہوں تیری یاد کے تہہ خانے میں

    یہ یادوں کا تہہ خانہ ذات کی پاتال میں ہی تو سجتا ہے۔ میں نے کوئی غلط کہا ہے کہ تمہارے ہر نظم کے دریچے سے صدیوں پر محیط ایک طویل ہجر کا موسم ہی نظر آتا ہے۔ جس سے جب بھی مکالمہ کا ڈول ڈالا جائے تو ایک بے نام سا خوف کنڈلی مار کر پھنکارنا شروع کردیتا ہے اور پھر “سانس لینا یہں تو دھڑکا سا لگا رہتا ہے ” یا “تجھ کو چھولوں تو میرا ہاتھ نہ جل جائے کہیں” یا پھر “میں اکیلا کھڑا ہوں افسردہ لائبریری میں تیری یادوں کی” اس مکالمے میں کیہں کیہں خود کلامی میں بھی شامل ہو جاتی ہے۔ ایک ٹھہرا ہوا لمحہ ہے کہاں ٹلتا ہے” اور بس یہی ٹھہرا ہوا لمحہ ہی وہ کلید ہے جس سے کانچ کا گلدان پڑھنے والے پر کھلتا ہے۔ اسے اپنا نام بتاتا ہے۔ اپنا چہرا کراتا ہے اور تب یہ کہنا آسان ہوجاتا ہے کہ تمہاری شاعری کہانی ہے ماضی کے رکے ہوئے لمحے کی۔ خواب ہے اپنی جڑوں کی لاش کا۔ مستقبل کی کھڑکی سے ماضی کے موسموں سے مکالموں کا، اپنے کانوں میں سرگوشی کا لمس ہے۔ کانچ کے گلدانوں میں باغ لگانے کی ایک سعی لاحاصل ہے۔ ایک مزے کی بات سنو! آج میں اکوڑہ خٹک گیا تھا۔

    روٹین کے شاہراہ سے نیہں ۔ ماضی کی پگڈنڈی پر سے بھی نیہں لیکن پھر بھی جانے کیوں مالٹوں کے باغ والی سڑک پر مڑ گیا جہاں اب کوئی باغ نیہں ہے۔ آگے چل کر دو بہت ہی آباد “قبرستان” ہے اور پھر وہ مسجد سفید اور مسجد سیاہ “پہلو بہ پہلو مگر دونوں اب سفید ہیں۔ قریب ہی دھرم شالا ہے مگر اب صدیوں سے وہاں گرلز سکول ہے۔ ساتھ ہی دریا پوری جوانی پر ہے، کیا منظر ہے! میں رفعت اور دونوں بیٹوں افراز اور اتبسام کو ان دلچسپ راستوں اور رہمانی گلیوں کی کہانی سنا رہا ہوں۔ پھر گھڑی کی “برسات” (برساتی) آئی پھر وہی دریا والی مسجد۔ حجرہ بنگلہ۔ بار بار میں گاڑی روکنے کا کہتا اور کہانی سناتا رہا۔ بچے حیران تھے انیہں کیا خبر کہ تمہارے شعری مجموعے نے ایک بار پھر مجھے خود سے ملنے کا موقع فراہم کیا۔ تہمارے شعر تو میرا حافظہ بنتے جارہے ہیں اس لئے میں نے اس مجموعے کی شاعری کی خد و خال کی بات نیہں کی۔ ان کی رگوں میں دوڑنے والے لہو سے خود کو گرمایا مہکایا اور تمہارے قرب کی خوشبو کی اتنی ہی شدت سے بسر کیا گیا جتنی شدت سے تم نے اسے ماضی کے رکے ہوئے لمحہ سے کشید کیا ہے۔ خالد پلیز مجھے معاف کرنا میں کانچ کے گلدان کی بجائے ان پھولوں کے رنگ و بو میں کھو گیا جو ان گلدانوں تک شاید کبھی نہ پہنچ پائیں ۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کے میں اس کی نظموں اور کچھ غزلوں کے بارے میں کہہ سکتا ہوں کو تو نے میرے زخمِ جگر کو چھولیا۔ کل کی طرح تم آج بھی میری تائید کروگے۔

    تمہارا
    ناصر علی سید
    پشاور

  2. سہیل رانہ

    آپ کے ارسال کئے ہوئے تحفے “اک آرزو کا پھول” جو شہاب صاحب کے توسط سے مجھ ناچیز کو پیش کیا، اس کا تہہ دل سے شکریہ- ابھی سرسری میں ورق گلدانی کی ہے، آپ کے کلام میں اک انفرادیت ہے جو وقت کے ساتھ قارئین کے دل میں آپ کیلئے ایک خاص مقام پیدا کرے گا-

  3. پروفیسر ناصر علی سید

    لمحہِ موجود کا جادو اوسے سر چڑھ کر بولتا ہے کہ پھر کانوں میں اور کوئی آواز نیہں آتی- آنکھیں بھلے سے آئندہ کے خواب دیکھتی ریہں مگر حال کی گرفت اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ انسان آنکھوں کے خوابوں کے ساتھ کسی طور سمجھوتہ نیہں کر پاتا- یہی حال بیتے ہوے کل کا ہوتا ہے جس کی جڑیں کتنی بھی گہری ہوں اور جس کے اثرات کتنے بھی دیرپا ہوں لمحہِ موجود انییں اپنی حدود میں قدم رکھنے کی اجازت نیہں دیتا- یوں بھی وہی لمحہ ہمارا ہے جس میں ہم سانس لے رہے ہیں جو بیتا وہ ماضی کے اندھے کنویں میں گر گیا اور جو آنے والا ہے وہ غیر یقینی ہے پھر بھی کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ہوجاتا ہے یا کوئی دوست ملتا ہے جس سے ہمارا گزشتہ کل جڑآ ہوتا ہے تو وہ وقت ہمارے لیئے سکھ کا باعث نیہں بنتا ہمیں ٹائم مشین میں ڈال کر ماضی میں پہنچا دیتا ہے- ایسا میرے ساتھ بھی ہوا جب بشریٰ فرخ نے مجھے ایک کتاب “اک آرزو کا پھول” دی- یہ شعری مجموعہ خالد رؤف کا ہے- جو ان دنون روزگار کے سلسلے میں ٹورنٹو کینیڈا میں ہے- خالد رؤف کے اس مجموعہ میں غزلیں بھی ہیں نظمیں بھی اور بقول خالد “میرے ساتھ زندگی نے جو برتاؤ کیا اس کے نتیجے میں دل نے جو محسوس کیا اور دماغ نے جو سوچا اس کو سادہ الفاظ میں آپکے سامنی رکھ دیا”

    یہ مجبوری کا چکر عشق کے چکر سے کیا کم ہے
    بھلا بیتھا ہوں میں تیرا درد بھی روزی کمانے میں

    خالد رؤف کو کینیڈا سدھارے ہوئے اب کم و بیش ربع صدی ہونے کو آئی ہے اور میری اس آخری ملاقات کو تو اس سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے مگر اس کتاب نے مجھے ایک بار پھر اس زمانے میں پہنچا دیا جب ہم ابھی سکول میں پڑھتے تھے مگر حرف و لفظ کے کوچے میں رہنے والوں سے ایک عقیدت اور محبت کا رشتہ آنکھیں کھول رہا تھا- اکوڑہ خٹک کی فضاؤں میں پشتو شعر و ادب کے چرچے تو عام تھے مگر کوئی باقائدہ تنظیم تحریک یا جریدہ نکلتا تھا نہ آتا تھا بس اخبارات کی حد تک ہے ہمارا علم محدود تھا یا سکول لائبریری جس سے کتاب محض جمعرات کے جمعرات جاری ہوتی دو کتابیں ایشو نیہں ہوتیں اور ایک کتاب کو سات دن تک کہاں پڑھا جاتا- ایک دو “آنہ لائبریریاں” تھیں جن میں دت بھارتی کے ناول خاصے مقبول ہوا کرتے- گھر میں بڑے بھائی پشتو کے معروف شاعر اعجاز بخاری ایم اسلم کے ناول لاتے اور مجھے یاد ہے کہ ان کا ایک ناول “چشم لیلیٰ” میں نے کئی بار پڑھا اور اس کی کئی سطریں مجھے اب بھی یاد ہیں بس انہی کھٹے مٹھے دنوں میں پشاور سے کبھی کبھی خالد رؤف بھی آجاتے یہ موقع یا تو عید کا ہوتا یا گرمیوں کی چھٹیوں کو اور پھر ہم بہت سے دوست مل کر اپنے محدود علم کے مطابق شاعروں اور ناول نگاروں پر بات کرتے اور ہر نشست کے آخر میں ہماری فرمائش پر خالد فیض اھمد فیض کی “گلوں میں رنگ پھرے بادِ نو بہار چلے” مہدی حسن کے انداز میں گاتے اور کچھ یوں سماں بندھ جاتا کہ ان کے دہبارہ گاؤں آنے تک ہمارے کانوں میں یہ غزل گونجتی رہتی- میں ہمیشہ ان سے یہی کہتا۔

    ساقی خزاں قریب ہے اتنی پلا مجھے،
    کھویا رہوں میں آمدِ فصلِ بہار تک

    اور وہ مسکراکے غزل سرا ہوجاتے- ایک دن خالد کا خط ملا کہ ہم چند دوست ایک ادبی جریدہ پشاور سے شائع کرنا چاہتے ہیں جس کا نام ماہانہ “سب کا” ہوگا اور تم اس کہ لئے کچھ لکھو- یہ پڑھ کر میرے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے کہ پڑھنے کی حد تک تو ٹھیک مگر لکھے گا کون۔ الٹی سعدھی تحریریں تو اپنی جگہ مگر کسی رسالے کے لئے لکھنا ایک ذمہ داری کا کام اور ایک سمجیدہ سرگرمی ہے- میں نے جواب میں لکھ دیا کہ میں شاید لکھ نہ پاؤں مگر خالد نے اصرار کیا تو میں نے اس جریدہ کے لئے پہلے چند ایک دوستوں کا خاکہ لکھا اور پھر ایسا چسکا پڑآ کہ کچھ مزاحیہ مضامین سمیت کالم اور افانہ بھی لکھ کر بھجوادیا- ان کی طرف سے پسندیدگی کا جواب آیا تو میں نے اگلےرسالے کے لئے بھی ابھی سے یہ سوچ کر لکھنا شروع کردیا کہ

    قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
    میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

    معلوم نیہیں کہ پھر ماہنامہ “سب کا” کے ادارتی بورڈ پر کیا گزری کہ آج تک وہ رسالے شائع نہ ہوسکا مگر خود خالد نے اپنی ایک جاسوسی کتاب “خوف کی پرچھائیاں” پر کام کرنا شروع کردیا- ان دنوں خالد کی طرح میں بھی ایشیاء کے سب سے بڑے جاسوس ناول نگار “ابن صفی” کے سحر میں گرفتار تھا مگر خالد کی طرح اس کے نقشِ قدم پر نیہں چلا لیکن یہ بات طے ہے کہ اردو زبان کا صحیح چٹخارہ میری نسل نے ابنِ صفی ہی سے سیکھا۔ خالد رؤف خود تو کینیڈا جا بیٹھا البتہ حرف و لفظ کے کوچے کا رایی بنا گیا- “اک آرزو کا پھول” میں مزے مزے کے نظمیں ہیں اور غزلیں بھی عمدہ ہیں۔ جو خالد نے پشاور، ریاض اور ٹورنٹو کے قیام کے دوران لکھی ہیں۔ نظموں میں محسوسات کی سطح پر جو چہرے ابھرتے ہیں وہ خالد کے اپنے تراشے ہوئے پیکر ہیں۔ بچپن اور نوجوانی میں شمع بینی اور آئینہ بینی کرنے والے نے ان اشعار میں کئی مقامات پر آئینہ اپنے آگے سے ہٹا کر لوگوں کے سامنے رکھ دیا ہے اور جس شمع نے اس کے چہرے کو کل آنسوؤں سے تر بتر کر دیا تھا اس نے اپنے دل کے طاق میں سجادیا ہے جس کی بنا پر اس کے سینے کے اندر آنسوؤں کا ایک سمندر موجنس نظر آتا ہے جسے وہ شعر و سخن کے جھونکوں سے سکھا رہا ہے-

    یہ سمندر کا کنارا۔ یہ ہوا کے جھونکے۔ یہ چھلکتے ہوئے جسمہں کی برہنہ ہل چل۔ لہر پہ چلی آتی ہے ساحل کی طرف مجھ سے کہتی ہے کہ آؤ نئے لوگوں سے ملے- خالد نئے لوگوں سے مل رہا ہے نئے تجربے اس کی زندگی کا حصہ بن رہے ہیں اس کی شاعری کا کینوس وسیع ہو رہا ہے کہ بیرونِ ملک جانا یا رہنا ہمیشہ لکھنے والوں کے لئے تحریک کا باعث بنتا ہے اور بات کہ ان کے اندر کچھ اور سوال اٹھ رہے ہوتے ہیں ۔ کچھ اس طرح کے سوال۔

    وہی منظر پرانا چاہتا ہے
    پرندہ لوٹ آنا چاہتا ہے

  4. محمد اسحاق خان – ٹورنٹو، کینیڈا

    خالد صاحب کی شاعری میں ایک بڑی پیاری رگ ہے جو آجکل کے آزاد منش شاعروں میں نیہں ملتی- خالد زندگی کی ساری تلخیاں اور مجبوریاں ایک ایک کرکے گنتے یہں اور روح کو پریشان کرنے والے اندھیروں میں بلا جھجک اترتے ہیں- جراؑت مندانہ سوال پوچھتے ہیں- وقت کی ناسازگاری کا غم بھی کرتے ہیں- مگر اپنی تحقیق کے دوران اخلاقی قدروں کا دامن نیہں چھوڑتے اس ضمن میں انکی مختلف نظموں پر غور کریں-

  5. ارباب ہوسف رِجہ چشتی

    شائقینِ ادب اس فیصلے پر یقیناً متفق ہوں گے کہ جہاں گذشتہ صدی کا نصفِ آخر سنجیدہ ادب اور ارتقاء پسند ذوقِ انشاؑ کے لئے تاریخِ ادب میں نمایاں تر رہا ہے وہاں موجودہ صدی کی ابتدا شعری ادب کی اشاعت و طباعت کے لحاظ سے اس سے بھی آگے بڑھنے کے آثار دکھا رہی ہے- ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آتا ہو کہ معاشرتی کشادہ ذہنی اور صنفی وسیع المشربی کے باعث معاملاتِ قلب سمجھنے کے مواقع کی سہولت نے غزل کے لئے میدان وسیع کر دیا ہے- اس پر مزید غزل کی ہیئتی وسیع المشربی نے تکنیکی وسیع القلمی اور ایک حد تک چشم پوشی یعنی نقاد کی “عالیٰ ظرفی” کو فروغ دیا ہے- جس سے غزل مقبول ترین صنف کے علاوہ آسان ترین صنف سمجھی جانے لگی ہے- لیکن اگر کوئی غزل کے دامن کو وسیع تر کرنے کے لئے نئے تخیلات کے ساتھ نئی تراکیب اور نئی شاعرانہ فلاسفی کو خوش آمدید کہنے پر مصر ہو اور وہ ایسی غزلیں کہنا شروع کردے کۃ

    پیر کا اس نے کہا تھا – آج منگل ہو گیا ہے

    تو ایسی غزلیں منظوم کرنے والوں کے لئے کاغذ کم پڑ جائیں تو بعید نیہں- لیکن ذوقِ لطیف شاید اسے شاعری اور خصوصاً غزل کی شاعری تسلیم کرنے پر تیار نیہں ہوگا- نہ ہی لفنٹے اور کرنٹے کے کافیوں سے چونکانے کی کوشش پر داد دے گا- لیکن یہ امر باعثِ اطمینان بھی ہے کہ اس نصف عشرے میں دنیا بہت زیادہ سکڑ گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی قلم زیادہ حساس اور “زباں آور” بھی ہو گیا ہے- روزناموں کی ادبی رپورٹوں سے یوں معلوم ہوتا ہے گویا ہر آٹھ دس گھنٹوں میں ایک کتاب ادبی مارکیٹ میں آ رہی ہے- ایسے میں کسی ایک کتاب کو اپنے خانے میں لانے کے خیال کو عملی شکل اختیار کرنے میں نسبتاً زیادہ وقت درکار ہے-

    اس ہنگامہ نواز ادبی ماہ و سال میں کسی شعری مجموعے کا جالبِ توجہ ہونا معمول کے واقعے سے بہتر یا برتر مقام کا مستحق ہونا چاہئے- ایسی ادبی شعری تخلیق کے عوامل میں شاید کسی موقع پر ہمارے دوست مرحوم باقیؑ صدیقی نے کہا تھا کہ اگر غزل میں ایک شعر بھی ایسا ہو جائے جو اہلِ ذوق کو یاد رہ جائے تو وہ غزل زندہ جاوید ہو جاتی ہے- اگرچہ آجکل کا شاعر کافی محنت اور فکر و تفکر کا پاسدار ہے-
    میں متفکر ہو رہا ہوں کہ تمہید طولانی بلکہ “طوماری” ہو گئی ہے- لہاذٰ آمدم بر سرِ مطلب-
    مجھے بشریٰ فرخ کے توسط سے ایک نیا مجموعہِ کلام نظر نواز ہوا- جس کے شاعر خالد رؤف سول انجنئر ہیں- لعکن جب ان کے ذہن کے گلشن میں “اک آرزو کا پھول” کھلا تو وہ ایک خوش فکر شاعر کی حیثیت میں سامنے آئے اور دوسری بار ہماری ادبی تاریخ نے یہ واقعہ اپنے صفحات پر دیکھا کہ انجنئر اور سائنسدان جب شعر کہنے لگتے ہیں تو زبان اور ادب کے کسی عالم سے کم نیہں ہوتے-

    خالد رؤف کے پہلے مجموعے میں غزلوں کی نسبت نظمیں زیادہ ہیں اور تقریباً تمام نظمیں نظمِ معریٰ کی صورت میں ہیں جبکہ آجکل نظم آزاد ہی زیادہ تر تخلیق ہو رہی ہے- الفاظ کے انتخاب و روانی اور زیر و بم سے ایسا محسوس ہوتا ہے جعسے خالد رؤف صاحب نے فیض کے کلام کا بڑے ذوق و شوق اور عقیدت سے مطالعہ کیا ہے- کہ ایسے حالات میں فیض کا آہنگ جو حقعقتاَ انہی کا حصہ ہے- کہیں کہیں خالد کے کلام میں عکس آفرین محسوس ہوتا ہے-
    خالد رؤف کی نظم چاہے معریٰ ہو یا آزاد، الفاظ اور حروف کا انتخاب موسیقی آمیز ہے اور یہ اکثر مقامات پر غیر ارادی لگتا ہے- اس سے یہ فیصلا کرنا دشوار یا بعید از قیاس نیہں کہ ان کی طبعِ رسا میں غنا ہے-، یہ کیفیت ان کے اشعار میں جا بجا بکھری ملتی ہے- کہیں ایک مصرعہ کہیں ایک شعر غنائی لہروں پر تیرتا ملتا ہے-
    مجھے ان کی نظمیں، غزلوں سے زیادہ بے ساختہ، پر خلوص و پر تاثیر لگیں- ان کی نظم “کتارہ” نے مجھے سب سے پہلے گرفت میں لیا اور میں نے محسوس کیا کہ میں شاعر کے ہاں توقعات کی ڈولتی کشتی کے ناخواستہ انجام کے خوف سے بظاہر ہمدرد اور دلکش خوش اثر ہواؤں کا سہارا لینے کی خواہش ابھرتی ہے لیکن اندر ہی اندر کہیں دل کے ایک کونے سے یقین کی لہر اٹھتی ہے- شاعر آوارہ ہواؤں سے پتوار چھین کر پھر تیقن کے بازاروں کا سہارا لئے خاموش لیکن قوی اور قویٰ بخش محبت کے دامن میں اطمینان کا خزانہ پاتا ہے- صداقت کی لو آخر یقین کی روشنی بن جاتی ہے تو شاعر کہتا ہے-

    سوچتا ہوں تو مگر اٹھ کے نیہں جاسکتا
    دل لپک کر مرے دامن کو پکڑ لیتا ہے
    گڑ گڑاتا ہے محبت سے مجھے روکتا ہے
    ذہن باغی کی طرح آنکھ دکھاتا ہے مجھے
    میرے اعصاب کو بے کار کئے دیتا ہے
    دور سے دیکھ رہا ہوں یہ نظارہ سارے
    دم بدم ڈوبتا جاتا ہوں تصور میں ترے
    لوٹ آیا ہوں تری یاد کے گہوارے میں-

    جب وجدان اور تیقن ہاتھ میں ہاتھ دے کر عرفان کی منزل پر پہنچھتے ہیں تو یقین گوشت پوست کی وادی سے آئی ہوئی آوارہ ہواؤں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہے اور “مراسم” جیسی خوبصورت نظم تخلیق ہوتی ہے-

    جسم کے ساتھ بڑھاؤ نہ مراسم میرے
    یہ تو وحسی ہے لبھائے گا بچھڑ جائے گا
    دل کے اندر جو فروزاں ہیں محبت کے چراغ
    ان کی ہر لمحہ دھڑکتی ہوئی مستی دیکھو
    ان کے اٹھتے ہوئے شعلوں کی جوانی دیکھو
    ان کی بیتاب جھلستی ہوئی ہستی دیکھو
    یہ وہ جذبے ہیں جو دامن نہ کبھی چھوڑیں گے
    وقت نے لوٹ لئے حسن و جوانی پھر بھی
    یہ تعلق تیری چاہت سے نیہں توڑیں گے-

    ان کی نظموں میں ایک روانی کے ساتھ ایسی قند کشیدہ صفت ہے کہ پڑھتے جائیں اور آگے بڑھتے جائیں- اس عمل میں بارہا ذہن خالد رؤف کے کثرتِ مطالیہ اور وسعتِ مشاہدہ کے ساتھ اظہار کی جامعیت کی طرف جاتا ہے- جو ان کی نظموں کو تاثیر بخشتی ہے- تماثیل و تراکیب کی تو وہ جیسے عسکری تنظیم کے ساتھ صف بندی کراکے بۃترین خوشبوش، خوش آہنگ اور خوش نما، مستعد، دلکش انداز کے حاملین کو اپنے مقصد کے بہتریں حصول کے لئے صف بند کر دیتے ہیں-

    کبھی آکاش کا تارا کبھی پتھر کبھی دھول
    کبھی گلشن کا دلارا کبھی صحرا کا ببول
    کبھی ساحل کبھی ساگر کبھی مانجھی کبھی ناؤ
    کبھی ہمت کبھی طوفاں کبھی سینہ کبھی گھاؤ
    کبھی جھرنا کبھی بادل کبھی جوہڑ کبھی پھول-
    سرِ مژگاں کبھی آنسو کبھی نظروں کا ملال
    کبھی ہونٹوں کی شرارت کبھی چہرے کا جلال
    کبھی ریشم سی جوانی کبھی سن خوردہ کھنڈر
    کبھی ہرنی کی روانی کبھی رنگوں کا جمال
    کبھی چاہت کبھی حسرت کبھی دھڑکن کبھی بھول

    بے شمار کیفیات لاتعداد رنگ انسانی زندگی کے بوقلمونی کی آئینہ دار اس نظم کی ہمہ گیری میں نمایاں ہیں- سعدی کے الفاظ میں
    گہے بر طارم اعلیٰ نشینیم
    گہے بر پشت پائے خود نہ بینیم

    خالد کے الفاط میں

    کبھی اڑتا ہوں تو گنبد پہ کلیساؤن کے
    کبھی گرتا ہوں تو دامن میں پناہ گاہوں کے
    کبھی ہمت کا پیمبر کبھی نفرت کی مثال
    کبھی نیزہ کبھی بھالا کبھی چھاتی کبھی گھاؤ

    یعنی المختصر-

    میرے ہاتھوں میں کہاں میرا مقدر یاروں
    میں تو خود اپنی ہی حالت کا تماشائی ہوں
    رمزِ ہستی کو کہاں کھول سکا ہوں اب تک
    خول ظلمت کا کہاں میں نے اتارا ہے ابھی-

    نظم کے آخر میں کہتے ہیں-

    میں پیمبر ہوں جو پیغام سے خود منکر ہے
    کیسے سلجھائے گی دنیا میری ہستی کا تضاد

    مجھ کو تو ان کی نظموں نے جکڑے رکھا اور نظموں کے میدان میں ان کے وصیع و عریض کینوس میں ہے مگن رہا –
    غزل کے معاملے میں خالد رؤف ایک اچھوتا خیال سوچتے ہیں، اسے نظم کرنے کا ارادہ کرتے ہیں، قلم اٹھاتے ہیں، جونہی قلم رواں ہوتا ہے کچھ کہتے کہتے رک جاتے ہیں- پوری بات کے ابتدائیہ اور اختتامیہ کے درمیان پیدا شدہ فاصلے کو عبور کرنے کے لئے، جہاں ضروری ہے، منطق کا، کہ جنسِ کمیاب ہے- بھرپور استعمال کرتے ہیں- غزل میں بعض اوقات بالکل نرالی لیکن جامع تمثیل یا اشارہ کنایہ استعارہ کی تلاش لطف پرور ہوتی ہے-

    دل کو الفت کا سزاوار کئے بیٹھا ہوں
    ایک راہت کو گنہگار کئے بیٹھا ہوں-

    جان نکلے تو اٹھے روح سے ہستی کا نقاب
    کب سے اک حسرتِ دیدار لئے بیٹھا ہوں-

    جام گردش میں ہے محفل پہ فسوں طاری ہے
    رسمِ دنیا میں گرفتار، پئے بیٹھا ہوں-

    اس طرح پوری غزل ذوقافیتین ہے- اس صنف کا ان کو شوق بھی ہے اور اس پر مہارت بھی-

    جاتے جاے ان کی ایک نظم “جامِ ہستی ” سامنے آگئی- خالد صاحب جو ڈکشن یا اسلوب منتخب کرتے ہیں اس میں ایک طرح کا منطقی تعلق یوں ہوتا ہے جیسے کیمیا میں (catalytic agent)
    ہر عمل میں کار فرما رہتا ہے-

    بہر کیف خالد رؤف کی غزل اور غزل سے زیادہ نظم ان کی قوتِ مشاہدہ کے ساتھ ان کی وسعتِ مطالیہ کی سند بنتی ہیں- شعری مجموعوں کے ہرے بھرے گلستان میں “اک آرزو کا پھول” جلوہ نما تو ہے لیکن نظر کے لئے خیرہ کن نیہں، نظر افروز ہے۔

Add a review

Your email address will not be published.