دُردِ تہِ وقت

Remains of Time Author: خالد رؤف قريشی

اردو شاعری کا یہ مجموعہ ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ یہ کتاب جو کہ ۲۰۵ صفحات پر مشتمل ہے، آپ کو کائنات اور وقت کے ایک ایسے چکر سے متعارف کرواتی ہے جس میں زندگی کی تمام حشرسامانیاں اپنی پوری شرت کے ساتھ موجود ہیں۔

$29.95

Share This

Description

اردو شاعری کا یہ مجموعہ ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ یہ کتاب جو کہ ۲۰۵ صفحات پر مشتمل ہے، آپ کو کائنات اور وقت کے ایک ایسے چکر سے متعارف کرواتی ہے جس میں زندگی کی تمام حشرسامانیاں اپنی پوری شرت کے ساتھ موجود ہیں۔ 

اردو، ہندی اور انگریزی کے مشہور شاعر اور ادیب ستیا پال آنند کا مقدمہ اس کتاب کی گہرائی سے آپکا تعارف کروائے گا۔ 

 

1 review for دُردِ تہِ وقت

  1. پروفیسر ڈاکٹر ستیہ پال آنند – کیمبرج، اونٹاریو، کینیڈا

    خالد رؤف قریشی گزشتہ دو تین دہائیوں سے مشقِ سخن کر رہے ہیں- ایسا اکثر دیکھا گیا ہے کہ وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ ایک با حسن شاعر کے کلام میں خاموشی سے کچھ ایسی تبدیلیاں در آتی ہیں جن کا اسے خود بھی احساس نیہں ہوتا- پختگی، سے مراد اگر اسلوبیاتی سطح پر مرصع ساز کے سی نفاست اور کاریگری ہے اور اگر یہ قدرت جزبات اور مشاہدات کی تازہ کاری کی قعمت پر حاصل کی گئی ہے تو ایسی پختگی سے وہ نو ساختہ اچھوتاپن بے حد اچھا ہے جسے انگریزی نقادوں نے، شاعروں کے ابدتائی کلام کے تناظر میں Juvenalia
    کا نام دیا ہے اور جو ان کی تخلیقی قوت کی کارکردگی پہلی کچی بلوغت کا شعری اظہار ہے- ہاں، اگر بدلتے ہوئے شعری سیناریو کے ساتھ ساتھ موضوعاتی اور اسلوبیاتی سطحون پر یہ تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور Juvenalia کی اونچی نیچی چٹانیں عہدِ
    شباب کی اٹھان میں ڈھل کر ایک بلند و بالا پہاڑ سی نظر آنے لگی ہیں، تو یقیناً یہ ایک نیک فال ہے-
    خالد اس سے پہلے دو شعری مجموعے شائع کر چکے ہیں- برِ صغیر کا شعری سیناریو بڑی حد تک صنفِ غزل کا مرہونِ منت ہے- رسائل و جرائد میں بھی غزل ایک صنفِ راسخ کے طور پر اپنا قبضہ جمائے ہوئے ہے- اور وہ شعرا جو نظم بھی لکھتے ہیں، بڑی حد تک انہی استعاروں، اسی طرزِ تحریر اور اسی ذخیرۃ الفاظ سے اپنی نظموں کی ساخت کرتے ہیں، جو غزلیہ شاعری میں raw material
    کے طور پر استعمال میں لایا جاتا ہی- اس بیش قیمت خرانے میں، جو ہمیں غزل سے ودیعت ہوا ہے، سب سے قیمتی وہ روایتی رومانی حسیت ہے، جو ‘عشق’ کے زمرے میں آتی ہے- کھوکھلے اور ہیفان انگیز تعشق کے نشیبوں میں بکھری کھر دری چٹانوں سے لے کر حسن و جمال کی نزاکتوں اور نازک خیالیوں کی سرسبز وادیوں سے ہوتے ہوئے یہ حسیت ہمیں تصوف کی اونچی بلندیوں تک لے جاتی ہے، لیکن ہوا یہ کہ گزشتہ ایک سو برسوں میں غزل کی کلاسیکی اور نیم کلاسیکی رو میں شعر کہنے والے شعراء اس دائرے سے باہر نکلنے میں کامیاب نیہں ہوئے جس کی گول لکیر انیہں ‘من و تو”۔۔۔۔۔ یعنی میں خود اور میرا محبوب ۔۔۔۔۔ سے اچھے وقتوں میں قدماء اور ان کے بعد آنے والے غزل گو شاعروں نے کھنچی تھی- البتہ گزشتہ بیس برسوں سے اس دائرے کی گول حدِ فاصل سے باہر نکلنے والے شاعروں کی تعداد اب بھی انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے-
    خالد رؤف ان دو دنیاؤں کے درمیان ایک ایسے پل پر کھڑے ہیں جہاں سے وہ دونوں اطراف میں نظر دوڑا سکتے ہیں۔ ایک طرف تو ان کے پیش رو ہیں جو کلاسیکی اور نیم کلاسیکی لگے بندھے استعاروں اور چار پانچ سو الفاظ کی ایک ایسی فہرست سے آگے نیہں بڑھ سکے جس میں اضافتوں اور ترکیبوں کی بھرمار ہے، اور جو لاکھوں بار پہلے لا تعداد سخن گو استعمال میں لاچکے ہیں، اور دوسری طرف اور بعید از مکان Poetic Anarchy
    اور لا یعنیت ہے، جسے جدیدیت کا نام دیا گیا ہے اور جس کے تحت “آزاد غزل ” وغیرہ کے تجربات عمل میں لائے گئے ہیں۔

    جیسے کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے، خالد ان دو دنیاؤں کے درمیاں کھڑے ہیں۔ وہ ابھی “من و تو” کے دائرے کے سفر سے پوری طرح آزاد نیہں ہوئے لیکن اس آزادی کے آثار صاف نظر آتے ہیں، جہاں تک نیم کلاسیکی شاعری کی روایت کا سوال ہے، وہ اس کے پابند ہیں لیکن اس پابندی کو اپنے پاؤں کی زنجیر نہ سمجھ کر وہ اس سے انحراف بھی کرتے ہیں- اسی لئے ان کی شاعری میں تازہ کاری ایک گلِ صدرنگ کی طرح ابھرتی ہے- محبوب سے شکوہ شکایت تو ہر عاشق کا شیوہ ہے- لیکن اس کا انداز کیسا ہے، کس ڈوب سے بات کہی گئی ہے، کون سا لہجہ اختیار کیا گیا ہے، الفاظ کا انتخاب کیسا ہے، یہ ہر شاعر کے بس کا روگ نیہں ہے۔ استعارہ سازی، پیکر تراشی، تمثال نگاری، تشبیہ کی صورت گری، یہ سب شاعر کے ترکش میں رکھے ہوئے تیر ہیں، دیکھنا صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ ان میں سے کون سا تیر منتخب کرکے نشانہ سادھتا ہے- خالد صاحب با موقع اور وضعداری کے ساتھ ان کو استعمال میں لاتے ہیں۔ کچھ اشعار ایسے ہیں، جو قاری کو یہ محسوس کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں کے “میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے!”

    غم بدلتے ہیں موسموں کی طرح
    ایک ہوتا، مگر سدا ہوتا

    ان کی گلی میں شام کو جانے کی شرط ہے
    پھر عمر بھر فراق کی رسمیں نبھایئے

    سوچتا ہوں تو سوالوں میں بکھر جاتا ہوں
    مرے افکار کی دشمن مری تنہائی ہے

    اسی طرح جام و مینا کا استعاراتی پیرہن ہے جو ہر شاعر پہنے پھرتا ہے لیکن کتنے ایسے یہں جنیہں اس لباس کو پہننے کا سلیقہ آتا ہے- خالد صاحب کے کئی اشعار اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس دیرینہ موضوع کو بھی استعارے کی تازگی کے ساتھ وہ جان بخش سکتے ہیں-

    مے کدے سے جو نکلتا ہوں تو گھر جاتا ہوں
    میری دنیا سے فقط اتنی شناسائی ہے

    تصوف اس ہمالہ کی چوٹی کا نام ہے جس پر عشقِ مجازی سے چل کر قدم بہ قدم سنگلاخ چٹانیہں عبور کرتا ہوا شاعر عشق تک پہنچتا ہے۔ اللہ اس انسلاکِ باہمی میں دوسرا ‘شخص’ بن جاتا ہے، جسے ‘تو’ کہہ کر بھی مخاطب کیا جاسکتا ہے، گلہ گزاری کی جاسکتی ہے، شکوے کئے جاسکتے ہیں، طعنے دئے جاسکتے ہیں، پیار اور محبت سے جس پر اپنا حق جتایا جاسکتا ہے، اس قسم کے اشعار تبھی معرضِ وجود میں آتے ہیں-

    خالد تو مشتِ خاک ہے، خاکی کی حد میں رِہ
    وہ تو حساب لے گا ترے بال بال کا

    خالد قریشی کی محفل میں غزل اپنے ناز و نعم، اپنے حسن و جمال کے ساتھ یقیناً جلوہ افروز ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ نظم بھی بصد انداز دل افروز جلوہ نما ہے- فرق دونوں میں صرف یہ ہے کہ جہاں غزل اپنے نیم کلاسیکی انداز میں جھک کر آداب بجاتی ہوئی ایک رقاصہ کا سادلار اور چاؤ چلالئے ہوئے ہے- وہاں نظم اپنی سنجیدگی اور ضبط، شوق، رغبت، تسلیم اور پسندیدگی سے آمنا و صدقنا، سمغنا و اطعنا، سرنیچا کئے ہوئے، گھٹنے جوڑے بیٹھی ہے۔ دونوں حسین ہیں، دونوں طرحدار ہیں، دونوں میں من موہ لینے کی طاقت ہے، لیکن جہاں ایک چلبلی، خوش طبع، شاد و بشاش ہے، دوسری کچھ کچھ یاس پرست، سنجیدہ اور افسردہ ہے۔ اس میں کلام نیہں ہے کہ شاعر کے پاس یہ اختیار نیہں ہے کہ وہ غزل یا نظم لکھتے وقت اس بات پر غور کرے کہ تخلیقی قوت کی کارکردگی کے اس لمحے میں اس کا موڈ کیا ہے، وہ کن حالات سے گھرا ہوا ہے، لیکن جو کچھ راقم الحروف کو نظر آتا ہے، وہ یہ ہے کہ غزل کے اشعار فرداً فرداً معرضِ وجود میں آتے ہیں، اٹھتے بیٹھتے، کھانا کھاتے ہوئے، کار ڈرائیو کرتے ہوئے۔۔۔

    یہاں تک کہ سوتے ہوئے بھی کوئی شعر یا صرف ایک مصرع سوجھ جاتا ہے۔ اس لئے غزل کے اشعار کے متن میں مضمون کی سطح پر ہم آہنگی ضروری نیہں ہے، جبکہ نظم لکھتے ہوئے جو موڈ شاعر پر طاری ہوتا ہے، وہی موڈ پوری نظم میں کار فرما رہتا ہے، یہی نظم کی کامیابی کی دلیل ہے کہ اس میں نامیاتی وحدت ہو، جو صرف موضوع اور مضمون کو ہی ایک لڑی میں نہ پروئے بلکہ اندازِ بیان کو بھی اسی وحدت سے ہم کنار کردے۔ اس لئے نطم اپنی سرشت میں ایک ہے موڈ کی پاسدار ہونے کا دعویٰ کر سکتی جو غزل کی سرشت سے بعید ہے۔

    آئیے، خالد صاحب کی کچھ نظموں کو دیکھیں۔ لیکن اس سے پہلے ایک بات کا اعادہ ضروری ہے۔ ان کی سبھی نظمیں یا لگ بھگ سبھی نظمیں اسی رہمانی، فمالیاتی نور بافی سے بنی ہوئی ہیں، جس کے رنگین تاگے ان کی غزلوں میں بھی بکثرت موجود ہیں۔ موضوعات اور مضامین فرقت زدگی، پشیمانی، تاسف، بے اطمینانی کے بھی ہیں اور تکسین، آسایش، نجات، راحت کے بھی ہیں۔ اگر ایک طرف اشک شوئی ہے، تو دوسری طرف دلاسا اور ڈھارس بھی ہے۔ اگر کلفت، رنج اور ملال ہے تو دلجوئی اور دلجمعی کا سامان بھی ہے۔۔۔۔۔ بہرحال ان سب کا احاطہ محبوب کے ہجر کی دلگیری اور نامیدی سے لے کر وصآل کی شادمانی، انبساط و مسرت کے مابین کا فاصلہ کرتا ہے۔ خالد صاحب نے اپنی نظر اپنے آس پاس کی زندگی، اس کے اندوہ گیں یا خندہ آور حالات پر کم کم مرکوز کی ہے، اس لئے ان نظموں میں صرف شاعر یا اس کے واحد متکلم کی خودنوشت سوانح ہی اپنے سامنے آتی ہے۔

    سرِ فہرست نظم “کل” اس شعری جمال کا مختصراً جلوہ دکھاتی ہے، جو بعد میں آنے والی درجنوں نظموں میں چاند سا روشن نظر آتا ہے۔

    کل اگر تیری یاد مٹ جائے
    میرے خوابوں کے دیپ بجھ جائیں
    چاندنی چھوڑ دے مرا آنگن
    مجھ کو راتوں میں نیند آجائے

    بعینہ یہی کیفیت ‘شوق کا ایک پل’ میں ہے جہاں صبا، کرن، شفق، ڈگر، ہوا، رات، سویرا، دھند، بادل،۔۔۔ سبھی مظاہرِ قدرت شاعر کے لئے وہ دیوتا ہیں جن سے وہ فقط ایک چیز کی تمنا کرتا ہے۔

    انہی میں ڈھونڈتا رہتا ہوں تیرے چہرے کو
    انہی سے مانگتا رہتا ہوں شوق کا اک پل

    پابند نظمیں جو چہار سطری بندوں میں لکھی گئی ہیں، تعداد میں ایک درجن سے بھی زیادو ہیں۔ ان سے شاعر کی اس قدرت کا اندازہ ہوتا ہے جس کے طفیل قافیہ اور ردیف کے ڈسپلن میں پابند وہ اپنا حالِ دل کھول کر بیان کرتا ہے۔ ایسی نظموں میں ہمیشہ یہ خطرہ رہتا ہے کہ کہیں مخلوط استعارہ حسنِ بیان کو مجروح نہ کردے، مگر خالد صاحب نے اس مشکل صورتِ حال کو اپنے قابو میں رکھا ہے اور حتی الوسع مخلوط استعاروں سے پرہیز کیا ہے۔

    یہ حساس طبع شاعر کا فرض ہے کہ وہ کانٹوں سے دامن بچا کرنہ گزرہ، ان کی چھبن کو محسوس کرے اور اس چھبن کے تلذز کا کچھ حسہ قاری تک بھی پہہنچنے کا سامان فراہم کرے۔ میں نے شروع میں یہ کہنے کی گستاخی کی تھی کہ خالد صاحب بنیادی طور پر رومانی جمالیات، حسن و عشق، ہجر و وصآل کو شاعر ہیں، حالاتِ حاضرہ سے وہ اکثر و بیشتر اپنا دامن آلودہ نیہں ہونے دیتے، لیکن جہاں یہ بات عام طور پر قابلِ قبول ہے، وہاں اس سے انحراف کی نشانیاں بھی دستیاب ہیں۔ زندگی کی قباحتوں میں ایک بہت نامراد بدعت ہے جسے انگریزی میں Pedophilia کہا جاتا ہے۔ میں نے اس قدر چابکدستی سے، غلاظت سے اپنا دامن بچانتے ہوئے اور economy of words کو بروئے کار لاتے ہوئے اس مشکل موضوع پر کوئی نظم اردو میں اس سے پہلے نیہں دیکھی۔ یہ خالد صاحب کا کمال ہے، کہ انہوں نے اس موضوع کو نفاست کے ساتھ نبھایا ہے۔

    اس نظم کی ابتدائی سترہ یا اٹھارہ سطروں میں شاعر سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے ایک بچے کا سراپا بیان کرتا ہے، جس کی آنکھوں میں گہری یاسیت ہے، جوڈرڈرکر، پھونک پھونک کر پاؤں رکھ رہا ہے۔۔۔’جیسے ہر در پہ کوئی پہرہ ہو۔۔۔۔ جیسے ہر راستہ اندھیرا ہو’ اس کے چھوٹے چھوٹے پاؤں جوتوں سے بے نیاز ہیں، وہ بھوکا ہے۔ اس کے تن پر ایک بوسیدہ میلی قمیض ہو اور ایک ہلکا سا جانگیہ ہے، اس کے ہونٹ سوکھے ہوئے ہیں۔ اس کے خشک گالوں پر سردی نے اپنے نقش و نگار چھوڑ دیئے ہیں۔ ایسی حالت میں وہ ایک کبابی کے پاس جا کر ٹھہر جاتا ہے کہ شاید جلتے الاؤ سے کچھ حدت ملے اور ہاتھ سینک سکے۔۔۔۔۔ یہ سراپا، ایک کے بعد ایک انگوٹھی میں جڑے ہوئے نگینوں کی طرح قلم سے کاغذ پر چسپاں ہوتا چلا جاتا ہے اور اس طرح قاری کے ذہن پر ایک چلتی پھرتی بلکہ بولتی ہوئی زندگی کا نقشہ کندہ ہوجاتا ہے، اور تب وہ سطریں آتی ہیں جن میں کباب کھاتا ہوا ایک گاہک جو اس کی طرف بہت انہماک سے دیکھ رہا تھا، اس بیکس لڑکے کو اپنی جنسی ضرورت کی تسکین کا سامان سمجھ لیتا ہے۔ یہاں شاعر نہایت احتیاط سے پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے اپنی بیانیہ جاری رکھتا ہے۔

    اس نے آدھے کباب کا ٹکڑآ
    اس کی جانب بڑھادیا ایسے،
    جیسے مچھلی کو پھانسنے کے لئے
    کوئی پانی میں جال پھیلائے
    اس سے کہنے لگا کہ اے لڑکے
    میری بیٹھک میں رات آجانا
    گرم بستر تجھے ملے گا وہاں!
    خالد رؤف قریشی صاحب کا یہ مجموعہ اس حقیقت کا پتہ دیتا ہے کو وہ اپنی عمر کے ہم عصر شاعروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چل رہے ہیں۔ در اصل فی زمانہ بیشتر اردو شاعر اس دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ایک طرف تو کلاسیکی اور نیم کلاسیکی غزل کی روایت انیہں اپنی طرف کھینچتی ہو اور دوسری طرف زندگی کو گونا گوں رنگ انیہں اپنی طرف بھی متوجہ کرتے ہیں جیسے زبانِ ھال سے یہ کہہ رہے ہوں، اے شاعر، دیکھ ہماری طرف بھی، ہم تمیہں موضوعات کا وہ خزانہ دینگے جو تم کیہں اور ڈھونڈے سے بھی نہ پاؤگے۔ خالد صاحب کی آخر میں زیرِ بحث لائی گئی نظم اس بات کا واضع اشارہ دیتی ہے کہ وہ کون سی راہ پر چلنے کے متمنی ہیں۔ میں انیہں bon voyage کہتے ہوئے ان کے اگلے مجموعے میں وہ سب کچھ دیکھنے کا خواہاں ہوں جس کے وہ اہل ہیں۔ وہ ایک ایسے شاعر ہیں موزونیت جن کی طنع حاضر میں ہر وقت موجود رہتی ہے، ان کے قلم سے شستہ زبان و بیان کا ایک چشمہ سا پھوٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے وہ قادر الاکلام ہیں۔ انیہں الفاظ کے لئے سرگرداں انیہں ہونا پڑتا۔ شرط صرف موضوع اور مضمون کا انتخاب ہے۔ اللہ کرے وہ اس میں دن بدن ترقی کریں ۔ آمین!

    (ڈاکٹر) ستیہ پال آنند
    کیمبرج، اونٹاریو، کینیڈا

    22 نومبر 2007ٰء

Add a review

Your email address will not be published.