دل کی دہليز پر گلاب

A Rose at the Threshold of my Heart Author: خالد رؤف قريشی

اردو کی اس منفرد شعری مجموعہ کو پاکستان رائٹرز گلڈ کی طرف سے بہترین شاعری کا  ایوارڈ مل چکا ہے۔ 

 

$29.95

Share This

Description

اردو کی اس منفرد شعری مجموعہ کو پاکستان رائٹرز گلڈ کی طرف سے بہترین شاعری کا  ایوارڈ مل چکا ہے۔ 

غزل اور نظم میں رومانوی حسیات کے علاوہ  یہ کتاب آپ کو معاشرتی، سیاسی اور معاشی بے راہ روی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے منفی جذبات سے بھی یہ کتاب متعارف کرائے گی۔

 

شمال امریکہ میں اردو زبان کی داغ بیل ڈالنے والے، مشہور شاعر، ادیب اور نقاد، جناب مامون ایمن کا پیش لفظ اس کتاب میں شامل ہے۔

1 review for دل کی دہليز پر گلاب

  1. مامون ایمن – نیو یارک

    زندگی کونسبتاً زیادہ قریب سے دیکھنے والا شاعر، خالد رؤف قریشی زمانہ سے مربوط واقعات و حالات کے پسِ منظر میں کا رفرما لمحات کا نظارہ بھی کر تا ہے اور گہے، تجزیہ کی بنیاد پر ان کا جائزہ بھی لیتا ہے ۔ مجوزہ جائزہ اسےکبھی اقرار سے اور کبھی انکار سے ہم کنار کرتا ہے ۔ اقراراور انکار اجتماعی نہیں ، انفرادی ہیں کہ خالد شور وغوغا اور تماشوں سے سجے میلوں میں ،خواہشوں اور تمناؤں کی قطاروں میں اور تعبیروں سے معمور خوابوں میں بھی اپنی تنہائی کا ہاتھ تھامے رہنا چا ہتا ہے ۔ وہ غیروں کی با تیں سنتا ہے ۔ وہ انھیں درست مانتا ہے اور کبھی انھیں غلط قرار دیتا ہے، لیکن اپنے دل و دماغ سے دیکھنے اور پر کھنے کے بعد ۔ اس روش میں استدلال ہے۔ بہ الفاظِ دیگر، یہ کہیے کہ خالد، جذب وفکر کی منزل تک پہنچنے کے لیے، اپنے سفر کی راہ خود بنا تا ہے ۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ اس راہ میں تکان بھی ہے، تذبذب آ میز سوالات بھی ہیں ملگجی ساۓ بھی ہیں، اور سراب بھی ہیں ۔اس راہ میں پائے جانے والے عیاں اور نہاں جھو نکے خالد کو زمین پر قدم جمائے رکھنے کی تلقین کرتے ہیں لیکن ہرلحظہِ آسمان پر نگاہ جماۓ رکھنے کی دعوت کے ساتھ ۔ یہ دعوت رجائیت کی پیامی ہے ۔

    مانا کہ ہر اک جاں کے مقدر میں فنا ہے
    دِن رات قیامت کے تصور سے ڈریں کیا

    مجوز و پیام رجائیت اعتمادِ ذات کے جو ہر سے مبراء نہیں ۔

    ہم نبھاتے ہیں قیامت میں بھی دنیا کا رواج
    آنکھ پرنم نہیں، لب پر کوئی فریاد نہیں

    لہٰذا، اعتمادِ ذات ، گھر سے بے گھر ہو کر ، دور افتادہ کینیڈا میں آ کر بس جانے والے شاعر خالد کے اسلوب کا اساسی عنصر ٹھہرتا ہے ۔اس عنصر میں’’ شور ،نور ،امید‘ اِنسلا کی درجہ ر کھتے ہیں ،مثلا:

    شاید دل صبور کا ساغر چھلک گیا
    کیسا عجیب شور سا دل میں بپا ہے آج

    خالد کے انظبارِ بیاں میں روایتی اِضافتی تراکیب وافر میں مثلاًا ’دل صبور ، جرمِ محبت، چاکِ گریباں، سرِ عام ، شبِ فراق، فصلِ بہار،رئیسِ شہر، دستِ قدرت، مژدۃ باراں، بحرِ بے ثبات ، نا داریِ قسمت، جبینِ ناز‘‘۔

    ہمیں خبر ہے محبت ہے کیا ، عبادت کیا

    جین ناز کے سجدے کہاں پہ رہتے ہیں

    ان انضافتی تراکیب میں سہ لفظی نمونے بھی نظر آ تے ہیں مثلا’’ تو قیرِ مساواتِ محمدﷺ، دردِ وسائلِ ہستی‘‘اب ان عطفی تراکیب کے نمونے بھی ملاحظہ کیجیے۔۔۔’’خدوخال، دل ودماغ، روز وشب ، شب وروز، چشم ولب و گوش، لحاظ وضبط ومرؤت‘‘ ۔

    جینا لحاظ و ضبط و مروت کا نام تھا
    رہتے ہیں جس میں لوگ وہ بستی کہاں رہی

    به شعر بحرَ مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف میں ہے ۔ اس کی تقطیع یوں ہے ۔۔۔ مف عول ، فاعِ لات ،مَ فاعیِ لن ، فاعِ لن ۔ خالد کے اس شعری مجموعہ میں سب سے زیادہ غز لیں اس بحر میں ہیں ،مثلا ۔۔۔’’(آ نکھوں سے گر کے بوند کی ہستی کہاں رہی/ ۔ آ نکھوں سے کہہ رہا ہے مرایار کچھ نہ کچھ/ شاید دلِ صبور کا ساغر چھلک گیا/ یا رب! ہمارے در دکا درماں کوئی تو ہو/ جو دن کی روشنی کا پرستار ہو گیا/ جب تک ترے خیال میں لطف خمار ہے/ محسن نے دل جلوں پہ یہ احسان کر دیا/ مانا کہ انتظارکا یارا نہیں رہا/ ہم رونقوں میں تیرا نشاں ڈھونڈ تے رہے / بھٹکتے نظر تمہاری خدارا کبھی کبھی/ اپنے ہی گھر کا راستہ دشوار ہو گیا/ کوہِ گراں جواپنے زمانے کی شان تھے/ رہتے ہیں ہم ہجومِ جہاں سے پرے پرے/ اچھا ہے ابتداۓ سفر میں بچھڑ گئے / وحشت میں ٹال آ یا ہوں دنیا کوسَر سے مَیں/ جب آدمی کے ہاتھ میں تلوار آ گئی/ سینہ میں انتظار کی آتش جلائیں گے )‘‘

    اب ان دیگر آ ٹھ رکنی غزلوں کے نمونے ملاحظہ کیجیے :

    “بحر رمل مثمن سالم مخبون محذوف مسکن / فاع لاتن ،فَ عِ لائن۔ فَ عِ لائن ، فع لن‘ (لب پہ اک لفظ شکایت کا نہ لاؤں کیوں کر/ چھوڑ اپنوں کو، یہ دشمن پہ بھروسا کیسا/ نام آ تا ہے ترالب پہ تو ڈر جا تا ہوں/ خواب دیکھا ہے تو تعبیر بھی کر نی ہوگی/ ایک ا رماں ہوں ، ہزاروں میں بٹا بیٹھا ہوں/ مجھ سے لڑ ناوہ بھی چھت پہ بھی آ نگن میں/ دوررہتے ہو، مجھے یاد سے بہلا تے ہو/ التجاۓ دلِ ناشاد کہاں جاۓ گی ‘‘

    بحر محبتث مثمن مخبون محذوف/ مَ فاعِ لن، مَ فاعِ لن ( زمیں کے قہرکواہلِ زماں ہی سہتے ہیں/ نگاہِ ناز سے کچھ تو کہیں اشاروں میں؟ ہمیں جنون میں یکسانیت نہیں بھاتی / زمیں کے لوگ اگر آ سماں پہ رہتے ہیں/ ہمارے دل سے یہ سایہ سا کیا لپٹا ہے/ بجا ہے اپنی نگاہوں کو قدرے خم رکھنا/ زمانِ وصل کی امید گرنہیں، خالد/ کبھی تو مجھ سے نظر وہ بھی چار کر دیکھے/ یہ کیا کہ ہاتھ ملائیں ستم شعاروں/ سے اتر رہی ہے جو سوغات آسمانوں سے )‘‘

    بحرِ ہزج مثمن مکفوف محذوف/ مَف عول، مَ فاعِی ل، فاعولن- ۔ “آنکھوں میں لیے بیٹھے ہیں جواوس کے قطرے/ ہم پیار کی اقدار کے ضامن ہیں وگر نہ/ اس غم کا مداوا جوکریں ہم تو کریں کیا/ بوسیدہ کتابوں میں کہیں دور پڑے ہیں ۔‘‘

    بحرِ رمل مثمن سالم محذوف/ فاعِ لاتن ، فاعِ لاتن ، فاع لن ،’ ان سےمِل کر درد کا احساس ہلکا ہوگیا ۔‘‘

    خالد نے اپنا اسلوب چھ رکنی غزلوں سے بھی سجایا ہے،مثلا’’ (میں نے چاہت کی انتہا کر دی/ دل بہلتا نہیں زمانہ میں/ موج سرکش ہے، دور ہے ساحل/ ان کی فطرت میں کیا امیری ہے/ تجھ سے ملنا اگر قیامت ہے/ ان کو احوالِ دِل سنا تا ہوں/ ہم کوتھوڑی شراب پینے دو/ زندگی کا ادھار باقی ہے/ ہم بھی قسمت کو آزماتے ہیں/ زندگی کا عجیب چہرہ ہے / فاع لاتن، مَ فاعِ لن فعِ لن/ بحرِ خفیف مسدس مجنون مشعث محذوف )‘‘

    یہ چار رکنی غز لیں تنوع کی نشان دہی کرتی ہیں ۔۔۔’’ ( ہم ان پہ نظر ر کھتے/ مف عول ،مَ فاعِی لن/ بحرِ ہرج مربع اخرب مکفوف مخنق سالم ‘’ ( یاد کی لہروں سے گزریں/ فاع لاتن ، فاع لاتن/ بحرِ رمل مربع سالم )‘‘

    یاد کی لہروں سے گزریں
    درد کے پہروں سے گزریں۔

    سوچ کی جادوگری ہے
    دشت میں نہروں سے گزریں

    ان اشعار میں اسماء ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔۔۔’’یاد،لہر / در د، پہر/ سوچ ، جادو گری/ دشت ،نہر “ان اسماء کے معانی اور مفاہیم کے سلسلے علامتوں سے ملتے ہیں جو شعر کے متن میں تہہ داری پروتے ہیں ۔ خالد کی لفظیات میں علامتوں کے خوش گوارقص ہیں۔ زرا ان الفاظ کو علامتوں کی نظر سے بھی دیکھیے ۔۔۔’’ شور، نور ، جناود، جنگل، چراغ ، بازار، نیند ، دھارا ، خاک ، زنداں‘‘۔

    خالد زندگی کے میلے کا تماشائی ہے ۔ وہ اس میلے میں پائی جانے والی خوشیاں اور خوشیوں سے ابھرنے والے غموں سے آشنائی کا خواہاں ہے ۔ وہ اس طرح کہ اسے مجوزہ میلے کے منظر کے ساتھ ساتھ اس میلے کا پس منظر بھی نظر آۓ تا کہ وہ انھیں’’سب نتیجہ کی نظر سے دیکھ کر ، ان کا تجز ی کر سکے، ان پر تبصرہ کر سکے ، ان کی حدوں کا تعین کر سکے ، ان کی وسعتوں سے اپنے ماحول کے نشیب وفراز کا انداز لگا سکے۔ ۔ ۔ تا کہ وہ اپنی پسند ناپسند، ترجیحات اور ر جحانات کے درجات اور اثرات کے زاویے، گہرائی اور گہرائی کے راستے استوار کر سگے۔۔۔تا کہ وہ ذکرِرب، عرفانِ رب‘ کے احکامات کی تعمیل سے ہم کنار ہونے کی کوشش کا عمل جاری رکھ سکے ۔ یہاں اس حقیقت کی نشان دہی بھی ضروری ہے اور اس حقیقت کا بر ملا اعتراف بھی ضروری ہے کہ خالد کے دل وز باں اقراری ہیں ۔۔۔’’ بے شک، انسان ظالم ہے، جاہل ہے ۔ نیز یہ کہ بے شک ،انسان خسارہ میں ہے ۔ ظلم جہل اور خسارہ کی دنیا میں رہنے والا مجبور انسان ، قد ر سے تہی دامنی کے باوجود، اسیری سے نجات پانے کی سعی کر سکتا ہے۔ اس سعی کی بنیاد سبب/ نتیجہ پر ہے اور خالد کواس کا خوب احساس ہے۔ خالد کی سعی مشاہدات کا سہارا لیتی ہے، مثلا ۔۔۔’’ کوئی عقدہ کھلتا ہے تو رسوائی کا باعث بنتا ہے کا جل کی دھاریاں دنیا کی نگاہ دھندلاسکتی ہیں رقابت کی آندھیوں سے دلوں پر غبار چھا جا تا ہے بجا کہ دنیا کا مقد رفنا ہے لیکن دن رات قیامت کے تصور سے نہ ڈرنا چاہیے ذات کی تنہائی سایہ یا ہم زاد سے بہل سکتی ہے مفلسی تو غریب کا مقدر ہے، بجا لیکن رئیس شہر بھی ایک دن نادار ہوسکتا ہے۔ بربادیوں کے دور میں دل تازہ رہتے ہیں۔ انتظار کی گھڑیاں مشکل سے کٹتی ہیں اہل زمیں تمام قہر زمین ہی پر سہتے ہیں جب کہ ستم شعار عرش بریں پر ہتے ہیں فرد بوٹا لگا کے آ س سے آ ساں کو تکتا ہے سجدہ میں گر کر دعا ما نگنے کا عمل عشق میں سرشاری کی ادا بن سکتا ہے ۔ اس ضمن میں یہ خود کلامی ملاحظہ کیجیے

    سجدہ میں گر کے میں بھی دعا مانگ لوں کبھی
    ہو جاؤں میں بھی عشق میں سرشار کچھ نہ کچھ

    اس شعر میں ایک تمنا ایک عمل سے مربوط ہے ۔ مجوزہ تمنا کے نتیجہ میں میسر آنے والی سرشاری میں یقین نہیں ، آس سے مربوط ایک امید ہے ۔

    خالد کی غزل میں پائے جانے والے خود کلامی کے بینمونے بھی ملاحظہ کیجیے ۔۔۔ وہ مجھ سے ناراضیاں چھپا تا ہے/ اس کی چپ مجھے وقت کے دھارے میں بہادیتی ہے/۔ اس کی تیز نظر میں میرے لیے پیار کا زرا سا اقرار ہے/ ہم تاریخ کے اوراق ہیں کہ ماضی سے جڑے ہیں/ اس کی آنکھوں کا جادو میرے دل پر ہے/ تیری یادیں میری یادوں میں گھلی جاتی ہیں/ زہرِعشق کا نشہ کافور ہور ہا ہے کہ پیار ناگن اب ہمیں نہیں ڈستی/ جدائی میں انتظار باقی ہے کہ ہم ان کو چاند ، تاروں میں دیکھتے رہتے ہیں ۔‘‘

    جدا ہوۓ ہیں مگر انتظار باقی ہے
    ہم ان کو دیکھتے رہتے ہیں چاند تاروں میں

    اس شعر میں صیغہ جمع متکلم’ہم‘‘ کے بجاۓ اگر صیغہ واحد متکلم میں‘‘ استعمال ہوتا تو بشر کی ازلی تنہائی کی شدت کا اظہارنمایاں تر ہوتا۔

    فراق و وصل کے معانی اور مفاہیم اِس دنیا کی نظر سے نہیں ، اس دنیا کی نظر سے بھی دیکھنے کی سعی کی جاسکتی ہے ۔اس صورت میں ’’دوری،قرب‘‘ کے پیامِ حقیقت سے بھی سوانظر آ سکتے ہیں ۔اس صورت میں اعتراف اور ضبط خوش آیند بھی ہو سکتے ہیں ۔

    باد خوش باش کو پتوں میں چھپاؤں ہر دم
    ضبط کا پیالہ بہ ہرحال میں بھرتا جاؤں

    راہِ فرقت میں ترا خواب ہی منزل ٹھہرے

    کاش، میں تیری قرابت سے سنورتا جاؤں

    بادِ خوش باش کو پتوں میں چھپانے کا ٹمل ، ایک مجرد خیال ہے کہ باد کا وجود اسیری سے نہیں ،رہائی سے منسوب ہے۔ باد کے وجود پر دیوارودَراور دیگر قدغنوں کا اثر نہیں ۔

    خالد کی غزل میں اس طرح کے مجرد خیالا ت نظر آ جاتے ہیں ۔ ان خیالات میں تضادات کے کردار بھی بد لے بدلے نظر آ تے ہیں۔

    کچھ ایسے تیرے تصور میں کھو گئی ہستی

    ترے فراق کا دن بھی خوشی سے کہتا ہے

    و ہی’’ ہم زاد‘ والی بات خالد کو’غیر، اپنے‘ کی تمیز اورتفریق سے باخبر رکھتی ہے ۔

    ہم کو غیروں سے داد کیا لینی
    ہم تو لکھتے ہیں ہم زباں کے لیے
    ہاں، بی ضرور ہے کہ وہ غیر کواپنانے کا تمنائی ہے ۔

    جلتا ہوا چراغ دریچہ پہ رکھ کے ہم
    کرتے ہیں انتظار تمہارا کبھی کبھی

    اس شعر کے پہلے مصرع میں ’’چراغ ، در یچہ‘‘ الفاظ تو ہیں، بجا،لیکن خالد کے نزد یک و علامتیں بھی ہیں ۔

    علامتوں کی بانہوں میں ہمکنے والی خالد کی غزل سادگی کے باوجودطرح دار ہے۔ اس مضمون نگار کی جانب سے ، ایک غیرخصی رباعی خالد رؤف قریشی کی نذر ہے:

    الفاظ ، معانی میں علائم کی ادا

    إظهار سے افکار کا ایوان سجا
    خالد کی غزل دیکھ کے ایمن نے کہا
    پت جھٹر کے جلو میں بھی چہکتی ہے صبا

Add a review

Your email address will not be published.