Tumhare Naam

In Your Name Author: Khalid Rauf Qureshi

A manuscript consisting of various genres Urdu poetry comprising of Ghazals and numerous types of modern and conservative Nazams.

$24.95

Share This

Description

‘Tumharey Naam’ is a collection of Urdu poetry, which includes various genres of modern and conservative Nazam and Ghazal.
First published in 2009, this book consists of eighty-five poems, spread over 180 pages.
The dominant theme of these poems is romance but occasionally crosses over to other topics, such as politics and socio-economics; providing the reader with an in-depth introduction to the Pakistani-Indian cultural issues.
These poems will assist you in embarking upon an illustrious journey of love, longing, hope, despair, and forgiveness.
The foreword is written by the famous Urdu scholar, researcher, and poet; Prof. Mohammad Taha Khan; recipient of the Pakistan President’s Award, for his ground-breaking research work and numerous publications.

2 reviews for Tumhare Naam

  1. Mushtaq Shahab

    خالد رؤف سے میرا پہلا تعارف پروفیسر طہٰ خان بے اس طرح کرایا کےاباسین آرٹس کونسل تشریف لائے اور خالد رؤف کی کتاب “تمہارے نام” کی چار پانچ کاپیاں تھماتے ہوئے کہا، خالد رؤف اکتوبر میں وطن آرہے ہیں – اگر اس کتاب کی رونمائی کا اہتمام اباسین آرٹس کونسل کرلے تو شاعر کی حاصلہ افزائی ہوجائے گی، یہ غالبً اگست 2009ء کے آخر یا ستمبر کے ابتدائی ایام تھے، شاعر کے بارے میں زیادہ تفصیل سے نہ جاننے کے باوجود میں نے حامی بھرتے ہوئے کہا۔ خان صاحب، آپ کا کہنا ہمارے لئے حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ بس آپ سمجھئے یہ بات طے ہے اور مجھے خالد رؤف کی آمد سے آٹھ دس روز پہلے بتا دیجیئے گا تا کہ تقریبِ رونمائے کے اہتمام میں کوئی کسر نہ رہ جائے- طہٰ خان صاحب کے جانے کے بعد میں نے کتاب پر ایک طائرانہ سے نظر ڈالی تو مجھے تیرت ہوئی کہ خالد رؤف جسے میں کسی اور شہر کا باشندہ سمجھ بیٹھا تھا مگر جب اس کا یہ شعر سامنے آیا-
    خوابوں کا شہر پشاور اجز گیا
    ویرانیوں کی شام مزاروں کے نام ہے
    تو نا صرف یہ پتہ چلا کہ خالد رؤف کا تعلق بھی پشاور سے ہے بلکہ ایک حساس قلم کار کی طرح وہ بھی عالمی ریشہ ودانیوں کے ہاتھوں اجڑنے والے اپنے شہر کے غم کو دل کی اتھا گہرائیوں سے محسوس کرتا ہے اور دوسرے تارکینِ وطن کی طرح ملک سے باہر ہوتے ہوئے بھی اپنے وطن کی بربادی پر نوحہ کناں ہے، اپنے وطن کے معروضی حالات کی جانب اس نے اپنے تازہ مجموعہ کلام ‘چھاؤن چھاؤں چلو’ میں اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے۔

    مجبوریوں کے شہر میں ناکامیوں کا جشن یہ کیسا اک تضاد ہمارے نگر میں ہے اک آگ جل رہی ہے بھارت کی چارسو ہر شخص جیسے جادوگروں کے اثر میں ہے۔ کتاب “تمہارے نام” کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرنے میں خاصی مشکل پیش آئی کہ خالد رؤف بنیادی طور پر غزل کا شاعر ہے یا پھر نظم کا، اس کی غزلوں میں جہاں اچھوتاپن جا بجا جھکتا نظر آتا ہے وہاں نظم میں بھی تازگی کا احساس بکھر کر سامنے آتا ہے اور اس کی بیشتر نظمیں معروضی حالات کی ایسی جھلک پیش کرتی ہیں جن میں تلخ حقائق کا برملا اظہار خالد رؤف کی انفرادیت پر وال ہے، قومی اسمبلی کی کارکردگی کے نام لکھی ہوئی نظم ” خاموش کمرہ” سے چند اقتباسات ملاحضہ فرمائیے-
    میرے گھر میں اک ایسا کمرہ ہے
    جس میں مجلس پیاسی رہتی ہے
    لوگ بیٹھے ہیں کچھ نشتوں پر
    کچھ کھڑے ہیں خلا میں کھلتے ہیں
    ان کے چہرے عجیب چہرے ہیں
    سب کے آگے قلم تو ہیں، لیکن
    ان کے ہاتھوں پہ انگلیاں ہی نیہں
    کوئی آواز ہے نہ تقریریں
    کوئی الفاظ ہیں نہ تحریریں
    ایک بس خاموشی کا عالم ہے
    محسن احسان نے خالد رؤف کے شعری مجموعے “چھاؤں چھاؤں چلو” پر یکم ستمبر 2010ء کو امریکہ کے شہر Syracuse میں جو تقریظ لکھی یہ ان کی آخری نثری تحریر ہے کیونکہ اس کے فوراً بعد ان کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ 4 ستمبر کو لندن پہنچے جہاں انیہں ہسپتال میں داخل کرادیا گیا اور 22 ستمبر کو وہیں ان کا انتقال ہوا، محسن احسان نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خالد رؤف کے شعروں کو پرھ کر جیسے تازو کلیوں کی خوشبو کا احساس ذہن کے گوشوں میں جاگا، مجھے محسوس ہوا کہ اس شاعر کے قلم میں کوئی ایسی بات ہے جو کہ اس کو اس کے ہم عصر شاعروں میں ایک الگ اور منفرد مقام دیتی ہے، محسن احسان کے اس دعوے کے ثبوت میں خالد رؤف کے کئی اشعار پیش کئے جاسکتے ہیں۔
    غزل کہو تو زمانے سے کچھ جدا کہنا
    کہا ہے کل جو کسی نے وہ پھر سے کیا کہنا
    نہ انتظار کے لمحے نہ اہتمام بہار
    اسے زوال نہ کہنا تو اور کیا کہنا

    اپنے شہر کے حوالے سے خالد رؤف کا شعر تو اوپر کی سطور میں آپ ملاحظہ کر ہی چکے ہیں، اپنے وطن کے معروضی حالات کے بارے میں وہ یوں رقم طراز ہوتے ہیں۔

    نہ اقتدار کی حسرت نہ شوق زرداری
    کوئی سکون کا لمحہ مگر جیسا ہوتا
    انسان کا نصیب ہے خود اسکے ہاتھ میں
    راون کبھی بنے تو کبھی رام ہوگئے
    ڈر ہے بھٹک نہ جائیں سمندر میں کشتیاں
    ملاح باندھ باندھ کے رکھتے ہیں بادیاں

    یوسف رجا چشتی خالد رؤف کی شاعری کے بارے میں کہتے ہیں کہ غزل کے معاملے میں خالد رؤف ایک اچھوتا خیال سوچتے ہیں اور بعض اوقات بالکل نرالی، جامع تمثیل یا اشارہ کنایہ یا استعارہ کی تلاش لطف پرور ہوتی ہے۔

    قطرے جو چند آنکھ میں روکے ہوئے تھے ہم
    ان کو ترے فراق نے ساون بنادیا
    خالد ہمارے حسن پرستی کے شوق نے
    عصمت کو ایک رات کی دلہن بنادیا

    تارکینِ وطن کا المیہ یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد ان کو چاروں جانب سے جس قسم کے چھبتے ہوئے سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان سوالوں سے ان کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور ایسی صورتحال میں شاعر جو معاشرے کے حساس ترین طبقے سے تعلق رکھتا ہے تلملا کر کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

    وطں اپنا

    خود سے نفرت سی ہوگئی ہے ہمیں
    لوگ محفل میں ہم سے پوچھتے ہیں
    کون ہو تم کہاں سے آئے ہو
    کس زمیں سے تمہارہ ناطہ ہے
    لوگ کیسے وہاں پہ رہتے ہیں
    کیسے رسم و رواج ہیں ان کے
    کس طرح کی وہاں حکومت ہے
    کیسے حاکم وہاں پہ چنتے ہیں
    ہم زباں کھولتے تو ہیں لیکن
    جھوٹ کہتے ہیں سچ چھپاتے ہیں

    اس طرح کشمیر کے بارے میں اپنے درد کا اظہار ان الفاظ میں کرتا ہے

    بے ثمر ہیں تری تحریک کے باغوں میں شجر
    خون بہنا ہے مگر رنگ نیہں لیا ہے
    پھول کھلتے ہوئے ڈرتے ہیں گلستانوں میں
    ابھی پیغام بہاروں کا نیہں آیا ہے
    میرے کشمیر تجھے میری محبت کا سلام

    خالد کی آواز عصری ادب میں ایک توانا آواز بن کر ادبی فضا پر چھارہی ہے اور آنے والے دور میں خالد سے بجا طور پر توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی بلند آہنگی کو بلندیوں کی اوج تک پہنچائیں گے۔

  2. Professor Muhammad Taha Khan

    شاعری فنونِ لطیفہ کی سرتاج ہے اس لئے زندگی کی تمام جلوہ سامانیاں، رنگینیاں، رعنائیاں، دلفریبیاں اور دل آزاریاں اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے- اب شاعر پر منحصر ہے کہ وہ کتنا جذبہ اختیار رکھتا ہے اور کعسا سلیقہِ اختیار رکھتا ہے اور کیسا سلیقہِ اظہار رکھتا ہے- خالد رؤف کی شاعری میں جزبہِ بے اختیار بھی موجود ہے اور سلیقہِ اظہار بھی، مطالعہ بھی اور مشاہدہ بھی- سب سے بڑھ کر یہ کہ زخم خوردگی اور دل شکستگی ان کے رومان انگیز لہجے سے ظاہر ہے- کینیڈا کی سکونت میں وطن کی محبت اور قومی ہمدردی بھی شدت سے موجود ہے-

    خالد رؤف رواجی ےا اکتسبی شاعر نہیں ہے بلکہ وہبی شاعر ہے اور وہبی شاعر اگر شعر نہ کہے تو اپنی طبیعت پر ظلم کرتا ہے- چمانچہ خالد رؤف نے سچے جذبات کی سچی شاعری کرکے دل کا غبار نکالا ہے لیکن کسی مقام پر تہذیب و شائستگی کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا چنانچہ خالد رؤف کو اگر اچھا شاعر نہ کہوں تو برا کروں گا۔

Add a review

Your email address will not be published.