محمد طٰہٰ خان صاحب میرے استاد تھے

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ

عجیب مانوس اجنبی تھا، مجھے تو حیران کرگیا وہ۔ 

(ناصر)

یہ غالبً 1960ء کی بات ہے۔ میں اور میرا چھوٹا بھائی امجد رؤف پشاور کے سینٹ میریز سکول میں زیرِ تعلیم تھے۔ جب میں آٹھویں جماعت سے نویں جماعت میں پروموٹ ہوا تو کلاس کو بتایا گیا کے اردو پڑھانے کے لئے ایک نیا ٹیچر آنے والا ہے۔ 

لاشبا قد، "گہرا سانولا رنگ"، "چہرہ کے ایک طرف جلنے کا نشان"، "تیز نظریں" سوٹ پہنے ہوئے اور ٹائے لگائے ہوئے، طٰہٰ خان ہمارے سامنے تھے۔ دونوں ہاتھ پتلون کی جیب میں رہتے تھے۔ تیچر ڈیسک سے ٹیک لگا کر سٹوڈنٹس کی جانت کھڑے رہتے تھے۔ وہ شاز و نادر ہی کبھی بلیک بورڈ پر لکھتے تھے۔ ان کی آواز با رعب اور لہجہ کبھی حاکمہنہ اور کبھی مخلصانہ ہوتا تھا۔ وہ طنز ہ مزاح کے رسیا تھے۔ ان کا حافظہ کمال کا تھا۔ وہ کتاب کو کبھی ہاتھ نا لگاتے۔ وہ کلاس میں داخل ہوتے ہی سب لوگوں کو بہ نظرِ غایر دیکھتےاور پھر حکمِ صادم فرماتے: 

"کتاب۔ کا فلاں صفحہ کھولو اور فلاں شاعر کی فلاں غزل پڑھو۔" جیسے جیسے ہم میں سے کوئی شعر پڑھتا جاتا، طٰہٰ خان اس کی تشریح بیان کرتے جاتے۔ اور اس کے متبادل اشعار سناتے جاتے۔ 

ان کی کلاس ہم سب کو بہت اچھی لگتی تھی۔ کلاس کے آخری پندرہ بیس منٹ عام بہث پے مخصوس ہوتے جس دوران ان میں ہم خوب اپنا علم جھاڑتے۔ طٰہٰ خان صبر سے سنتے اور ہمیں صحیح راستہ لانے کی کوشش کرتے۔ 

ظٰہٰ خان نے ہم کو سکول ختم ہونے تک اور ہمارے میٹرک اور سینیئر کیمبرج مکمل کرنے تک پڑھایا۔ مجھے اشد حیرت تب ہوئی جب میں ایڈرورڈز کالج تک پہنچا تو ہمارے اردو کے پروفیسر وہاں بھی طٰہٰ خان ہی تھے۔ 

شاعری کا شوق مجھے سکول کے زمانہ سے ہی تھا لیکن کالج میں پہنچ کر جب مجھے ایسا لگا کہ میرے لکھے ہوئے اشعار کسی قابل ہوگئے ہیں تو میں نے اپنی ایک غزل طٰہٰ خان کے سامنے پیش کردی۔ اس غزل کا ایک شعر مجھے اب بھی یاد ہے۔ شاید یہ کچھ اس طرح تھا۔

اک سمت تم تھے، اور تھی اک سمت خدائی

اتنے سارے شعری مجموعے پیش کرنے کے بعد اب میں یہ اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس شعر کا پہلا مصرع بے وزن ہے۔ 

دل دو ستم گروں کے حضورِ انتخاب تھا۔ 

طٰہٰ خان نے ایک نظر میرے دیے ہوئے ورق پر ڈالی اور نہایت بے دردی سے اس کے ٹکرے ٹکڑے کرکے اسے ڈسٹ بن میں پھینک دیا۔ فرمایا : "مولانا! ماں باپ نے تم کو یہاں شعر و شاعری کے لئے نیہں بھیجا۔ تم کو انجنیئر بننا ہے۔ اس پر توجہ دہ۔ اس میں تمہارا فائدہ ہے"۔ اس کے بعد میں نے ایک طویل عرصہ تک کوئی شعر نیہں لکھا۔ کالج ختم کرنے کے بعد میں انجنیئرنگ کالج چلا گیا اور طٰہٰ خان کے ساتھ رابطہ ٹوٹ کر رہ گیا۔ 1965ء کی بات ہے۔ 

ایک طویل عرصہ کے بعد جب میں بیرونِ ملک سے چھٹیاں گزارنے پشاور آیا تو مجھے معلوم ہوا کہ طٰہٰ خان ریٹائر ہوچکے ہیں اور آرمی فلیٹس میں رہائش پذیر ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اب وہ نابینہ ہیں۔ مجھے بہت دکھ ہوا۔ جب میں ان سے ملنے جا رہا تھا تو میرے ذہن میں ایک معذور شخص کی تصویر تھی جو شاید کسی کی مدد کے بغیر کوئی کام نہ کرسکتا ہوگا۔ ان کے گھر کی گھنٹی بجائی تو اندر سے ان کی بیٹی کی آواز نے مدعا پوچھا۔ پھر دروازہ کے کواڑ کھول کر اندر بیٹھنے کو کہا۔ کچھ انتظار کے بعد طٰہٰ خان بغیر کسی سہارے یا جھجھک کے تشریف لائی اور اپنی مخصوص کرسی پر براجمان ہوگئے۔ ان کی وہی شکل، وہی صورت اور وہی اعتماد تھا۔ مجھ سے کہنے لگے "بھئی اپنا تعارف کروائیے۔ میں تو آپ کو دیکھ نیہں سکتا۔" میں نے کہا، "سر! میں آپ کا ایک بہت ہی پرانا شاگرد ہوں، سینٹ میریز سکول کے زمانے کا۔ خالد رؤف نام ہے میرا۔" انہوں نے فہراً کہا، "ارے ہاں بھئی! تم تو امجد رؤف کے بھائی ہو۔ مجھے بڑی اچھی طرح یاد ہو"۔ میں حیران رہ گیا۔ طٰہٰ خان نے مجھ سے بڑی گرم جوشی سے ہاتھ ملایا اور دیر تک پرانی باتیں دہراتے رہے۔ 

 

محمد طٰہٰ خان ایک بہت ہی جہاں دیدہ اور بالغ الذہن انسان تھے۔ ان کا علمی مطالعہ اور دنیاوی مشاہدہ دونوں بہت گہرے اور وسیع تھے۔ 

وہ خود اپنے بارے میں لکھتے ہیں۔ 

"چالیس سال کے معلمانہ تجربے نے بتایا کو خداوندِ عالم خواہ اپنے تمام بندوں کو بخش دے مگر اس مُعَلِم کو نیہں بخشے گا جو خدا کے دیئے ہوئے علم کو اپنے ساتھ قبر میں لے گیا۔ 

لسانی علوم اور قواعدِ زباں کا سلسلۃ متتلمی مولوی امام بخش صہبائی جیسے عالمِ جید اور فاضلِ اجل سے ملتا ہے۔ ان کی مشہورِ زمانہ کتاب "حدائق البلاغت" ہند و پاکستان کی تمام جامعات میں پڑھائی جاتی رہی ہے۔ مولوی امام بخش صہبائی کے شاگردِ رشید مولانا محمد حسین آزاد تھے جنہوں نے "تذکرۃ آبِ حیات" میں کچھ الفاظ و معانی پر بھی تحقیق کی ہے۔ مولانا محمد حسین آزاد کے شاگرد مولوی فتح محمد خان جالندھری تھے جن کی "مفتاح القواعد" اور "مصباح القواعد" پورے ہند و پاکستان میں مقبول و معروف رہی۔" 

لکھنؤ کے منشی گلاب سنگھ نے مولوی فتح محمد جالندھری کی دونوں تصانیف کو بنامِ 'رسالہ قواعدِ اردو" یکجا کیا۔ یہ رسالہ یوپی کے تمام نصاباب میں شامل رہا اور پشاور کے ڈاکٹر عبدالجلیل پوپلزئی کے کتب خانے میں موجود ہے۔ 

منشی گلاب سنگھ کی خدمت گزاری اور کفش برداری کی سعادت میرے نصیب میں آئی اور مجھے ایک امتیازی معلم بنا گئی، خدا اُن کی روح کو سکون بخشے۔"

پروفیسر طٰہٰ خان کی ہمت، حوصلہ، اور خود اعتمادی کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ نابینا ہونے کے باوجود انہوں نے لوگوں سے اپنے تعلقات قائم رکھے اور اردو زبان کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نیہں چھوڑی۔ اپنی ریسرچ کا عمل جاری رکھا اور اپنے حافظہ سے بھرپور کام لیا۔ جس حالت میں دوسرا کوئی بھی شخص ہمت ہار جاتا اور اپنے آپ کو موجوں کے حوالے کردیتا۔ طٰہٰ خان نے متعدد کتابیں لکھ کر شایع کیں اور اوارڈز حاصل کیے۔ وہ تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیز میں لیکچرز بھی دیتے رہے۔ 

وہ پاکستان ٹیلی وژن کے ساتھ آخر دم تک منسلک رہے اور متعدد ادبی پروگراموں کے روحِ رواں رہے۔ ان کی مندرجہ ذیل کتب قابلِ ذکر ہیں:

1۔ کلیاتِ رحمان بابا کا منظوم اردو ترجمہ (صدارتی ایوارڈیافتہ)

2۔ پشتو زبان کے شہنشاہ تصوف رحمان بابا پر تنقیدی مضامین (19 عدد)

3۔ خوشحال خان خٹک ک یرباعیات کا منظوم ترجمہ (800 عدد)

4۔ قرینۃ شعری، شعر شاعری کو سمجھنے کا آسان نسخہ 

5۔ خواجہ غریب نواز کے اقوالِ روحانی کا منظوم اردو ترجمہ (50 قطعات)

6۔ گلپاش، طنزیہ و مزاحیہ نظموں اور غزلوں کا ہنستا کھلکھلاتا شاہکار 

7۔ مختلف موضوعات پر طنزیہ و مزاحیہ قطعات  (3500 قطعات)

8۔ مختلف کھلیوں کی معلوماتی اور شگفتہ نظمیں (15 عدد)

9۔ داستان کربلا، شہیدان کربلا کے دلدوز مصائب کا منظوم بیان

10۔ اَنوار العلوم سید انور شاہ کے پشتو کلام کا منطوم ترجمہ (زیرِ قلم)

11۔ بچوں کی سائنسی، نباتاتی، حیاتیاتی اور ادبی نظمیں (50 عدد)

12۔ نویں اور دسویں جماعتوں کے کیمیا اور طبعیات کے علمی تجربات کا منظوم ترجمہ (75 عدد)

13۔ پشتو لوک دھنوں میں اردو نغمے (75 عدد)

وہ ایک مرتبہ مجھ سے کہنے لگے : "خالد میاں! میں اس زندگی کو اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھتا ہوں اور جیسی بھی لنگڑی لولی زندگی ہو میں اس کا بھرپور فائدہ اٹھاؤں گا اور کسی بھی مشکل کے سامنے کبھی بھی ہتھیار نیہں ڈالوں گا، آخری دم تک محنت کرتا رہوں گا۔" 

انہوں نے ایسا ہی کیا اور دنیا کے سامنے ثابت کردیا کہ انسان میں اگر ہمت اور ذہانت ہوں تو کوئی مشکل اس کا راستہ نیہں روک سکتی۔ 

اللہ تعالیٰ جناب طٰہٰ خان کا نام دنیا میں زندہ رکھے اور ان کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین۔ 

ہم ان کو ایک قابلِ قدر اور احترام معلم اور نہایت ہی مخلص انسان کے طور پر ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ 

خالد رؤف قریشی ۔ ٹورونٹو ۔ 2016ء 

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published.